یہ کہانی میانمار کی ہے جہاں کی رہنما آنگ سان سوچی نے فوج کی ہر بات مانی، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہیں، فوج کو اقتدار میں 25 فیصد حصہ دے کر اختیار دیا۔ انسانی حقوق کے تمام ایوارڈ، تمام نشان دنیا نے واپس لیے، رُسوائیاں ہاتھ آئیں، آہستہ آہستہ عزت جاتی رہی۔ آخر مصلحت اور اقتدار کی خاطر خاموشی کسی کام نہ آئی نتیجہ ایک اور مارشل لا کی صورت میں نکلا۔
Post a Comment