عدالت کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت اس وقت تک زیر حراست ملزم کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے جب تک اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر خود اس بات کا تعین نہ کرلیں کہ ملزم کے اس اقدام کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔

Post a Comment

أحدث أقدم

Sponsors