گلگت بلتستان کے سرینا ہوٹل میں 20 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے والے روم اٹینڈنٹ جوہر علی کہتے ہیں کہ ’معمول کے مطابق کمرے کی صفائی کی اور لاکر میں دیکھا تو وہاں پانچ، پانچ ہزار روپے کے تین بنڈل پڑے ہوئے تھے۔‘

Post a Comment

Previous Post Next Post

Sponsors