فنکاروں کا کام ہی ان کی جاگیر ہوتا ہے اور یہ جاگیر ایک ایسے معاہدے کے ذریعے ان سے ہتھیا لی جاتی ہے جسے شاید آنے والے وقت کے انسان حیران ہو کر دیکھا کریں گے اور اس کی کاپیاں انسانی حقوق کے عجائب خانوں میں ملیں گی۔
آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پُرزے‘: کم سے کم کام کی رائلٹی تو دے دیں
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق