رومانیہ کے تھیالوجی کے ماہر ماریئس دوروبانچو نے روایتی سائیکو تھراپسٹ یا مذہبی شخصیات کے بجائے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس میں روحانی تسکین حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگوں کے رجحان پر تحقیق کی ہے۔ ایمسٹرڈیم کی وریجی یونیورسٹی کے محقق ماریئس دوروبانچو نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مشاہدہ کیا ہے جو اپنے روزمرہ کے روحانی معاملات میں چیٹ جی پی ٹی جیسے آلات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کیا مصنوعی ذہانت ’مقدس صحیفوں‘ اور نئے مذہبی فرقوں کو جنم دے سکتی ہے؟
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق