پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں شدت لانے والے نئے گروہ بظاہر ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں کسی سیاسی مصلحت کا شکار بننے سے بچنے کے لیے اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنانا ہو سکتا ہے۔ مگر اس نئی حکمت عملی کے محرکات کیا ہیں، یہ کتنی خطرناک ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
پاکستان میں شدت پسندوں تنظیموں کی نئی حکمت عملی کتنی خطرناک ہے اور کیا طالبان سے ’دوبارہ مذاکرات‘ میں مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ موجودگی مسئلے کو حل کر پائے گی؟
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق