احمد بتاتے ہیں کہ 12 دسمبر کو وہ شمالی غزہ کی پٹی میں اپنے روزمرہ کام یعنی زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں گھر سے نکلے ہی تھے کہ انھیں اپنے ایک پڑوسی کا وہ ٹیکسٹ میسج موصول ہوا جس نے اُن کی زندگی تہہ و بالا کر کے رکھ دی۔
غزہ پر بمباری: ’ملبے تلے میرے دو بیٹوں اور چھ ماہ کی بیٹی کی لاشیں ہیں، میرے پاس کوئی نہیں بچا۔۔۔ وہ سب چلے گئے‘
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق