احمد بتاتے ہیں کہ 12 دسمبر کو وہ شمالی غزہ کی پٹی میں اپنے روزمرہ کام یعنی زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں گھر سے نکلے ہی تھے کہ انھیں اپنے ایک پڑوسی کا وہ ٹیکسٹ میسج موصول ہوا جس نے اُن کی زندگی تہہ و بالا کر کے رکھ دی۔

Post a Comment

أحدث أقدم

Sponsors