عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ چونکہ بچی کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا اور اس وقت فوری طور پرکہیں اور سے خون کا انتظام کرنا مشکل تھا اس لیے خون دینے کے لیے سب سے پہلے انھوں نے خود کو پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان کا خون بچی کے خون سے میچ کر گیا جس پر انھوں نے خون کا ایک تھیلا دیا لیکن چونکہ یہ ناکافی تھا، اس لیے دو تھیلے ان کے دو گن مینوں نے بھی دیے۔
کوئٹہ میں بچوں کا گلا کاٹنے کا واقعہ: اپنے خون کا عطیہ دے کر سات سالہ بچی کی جان بچانے والا پولیس افسر
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق