ذہنی امراض میں مبتلا خواتین کی پناہ گاہ بلقیس ایدھی شیلٹر ہوم میں موجود خواتین ہر رات جب سونے کو لیٹتی ہیں تو اپنے پیاروں کو ضرور یاد کرتی ہیں۔ کوئی اولاد کی جدائی میں تڑپتی ہے تو کوئی شوہر کے ساتھ دوبارہ زندگی شروع کرنے کی خواہشمند ہے۔ کوئی ماں باپ کو ایک بار اور دل بھر کے دیکھنا چاہتی ہے تو کوئی بہن بھائیوں کی راہ تک رہی ہے۔
ذہنی امراض کا شکار خواتین کی پناہ گاہ: بلقیس ایدھی شیلٹر ہوم میں موجود خواتین جنھیں گھر والے ’بوجھ‘ سمجھ کر یہاں چھوڑ جاتے ہیں
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق