ڈینگ ژیاؤپنگ کی ’خاموش رہو اور وقت کا انتظار کرو‘ کی پالیسی سے لے کر شی جن پنگ کی بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات پر توجہ مرکوز کرنے تک، چینی سفارت کاری میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ چین کے سفیر اب اپنے ملک کے عالمی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے سفارت کاری کا ایک جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔
چین کی بدلتی خارجہ پالیسی: ’وقت کا انتظار کرو‘ سے ’وولف واریئرز‘ تک: چین اپنے سفارتکار کن بنیادوں پر تعینات کرتا ہے؟
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق