ڈاکٹر سہیر نے بتایا کہ جب ان کا علاج ہو رہا تھا تو رضوان یہی کہتے رہے کہ انھیں ٹیم کے پاس واپس جانا ہے، انھیں میچ کھیلنا ہے۔ عام طور پر اس طرح کی حالت میں مریض کو ٹھیک ہونے میں پانچ سے سات روز لگتے ہیں لیکن رضوان کی حالت میں غیرمعمولی طور پر بہت جلدی بہتری آئی۔
محمد رضوان کی حالت دیکھ کر خیال آیا کہیں یہ ہارٹ اٹیک تو نہیں، علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیر سین العابدین
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق