ایک ایسے ماحول میں جہاں صحافی مورچوں میں بیٹھ کر دن رات چاند ماری کرتے ہیں رضیہ بھٹی ہوتیں تو وہ یقیناً کہتیں کہ مورچے سے باہر نکلو، سب سے بات کرو پھر آ کر بتاؤ کہ کہانی کیا بنی۔ باقی میں اپنی قینچی، ٹیپ اور لال قلم سے دیکھ لوں گی۔

Post a Comment

أحدث أقدم

Sponsors