قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے عطااللہ کہتے ہیں کہ جب ٹیسٹ کے نتائج آئے اور ان میں ایزوسپرمیا کی تشخیص ہوئی تو قبائلی روایات کے برعکس انھوں نے صاف صاف اپنی اہلیہ کو اصل مسئلے سے آگاہ کر دیا اور اب وہ خود اپنا علاج کرا رہے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Sponsors