سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی عیسیٰ نے عدالت کے رجسٹرار کے نام خط میں لکھا کہ ’قائم روایات کے مطابق بینچ کا سربراہ لکھا گیا فیصلہ سینیئر جج کو بھیجتا ہے‘ لیکن ان کے مطابق ساتھی جسٹس اعجازالحسن کو تو اس فیصلے کی نقل دی گئی ہے مگر انھیں یہ فیصلہ مل ہی نہیں سکا اور ’میرے دیکھنے سے پہلے ہی اب دنیا اس فیصلے کے بارے میں جانتی ہے۔‘

Post a Comment

أحدث أقدم

Sponsors