عمران خان پر گذشتہ برس تین نومبر کو ہونے والے حملے کے مقدمے کی تفتیش اب تک اِسی بحث سے آگے نہیں نکل پائی کہ آیا سابق وزیراعظم کو چار گولیاں لگی تھیں یا محض گولیوں کے ٹکڑے، حملہ آور ایک تھا یا ایک سے زیادہ اور حملہ ایک طرف سے ہوا یا مختلف اطراف سے جبکہ ابھی تک اس مقدمے کا چالان بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع نہیں کروایا جا سکا۔
کیا سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تفتیش بھی سیاست کی نذر ہو رہی ہے؟
Guideness
0
تعليقات
إرسال تعليق